مختصر خلاصہ
ریڑھ کی ساخت مہروں، ڈسک، جوڑوں اور رباط سے بنتی ہے جو حرام مغز اور اعصابی جڑوں کو محفوظ رکھتے ہوئے حرکت دیتی ہے۔ گردن یا کمر کا درد پٹھوں اور جوڑوں سے بھی ہو سکتا ہے، جبکہ بازو یا ٹانگ میں جانے والا درد نس کے دباؤ سے آ سکتا ہے۔…

ریڑھ کی بیماری اور آپریشن کا درست فیصلہ
Patient Learning Centre | مریضوں کی رہنمائی
یہ بیماری کیا ہے؟
ریڑھ کی ساخت مہروں، ڈسک، جوڑوں اور رباط سے بنتی ہے جو حرام مغز اور اعصابی جڑوں کو محفوظ رکھتے ہوئے حرکت دیتی ہے۔ گردن یا کمر کا درد پٹھوں اور جوڑوں سے بھی ہو سکتا ہے، جبکہ بازو یا ٹانگ میں جانے والا درد نس کے دباؤ سے آ سکتا ہے۔ زیادہ تر درد ایمرجنسی نہیں اور ایم آر آئی کی ہر خرابی آپریشن کا ہدف نہیں بنتی۔
کیا علامات ہو سکتی ہیں؟
- مقامی گردن یا کمر درد
- بازو یا ٹانگ میں اترتا درد، سنسناہٹ یا سن پن
- گرفت کم، پاؤں گھسٹنا، ہاتھ بے ڈھنگا یا چال بدلنا
- پیشاب/پاخانہ کی نئی خرابی یا رانوں کے بیچ سن پن ایمرجنسی ہے
تشخیص کیسے ہوتی ہے؟
تشخیص درد کے نقشے اور اعصابی معائنے سے شروع ہوتی ہے۔ کھڑے ہو کر ایکسرے سیدھ اور عدم استحکام، ایم آر آئی ڈسک، نس، حرام مغز، رسولی اور انفیکشن، جبکہ سی ٹی ہڈی واضح کرتی ہے۔ ضرورت پر اعصابی یا خون کے ٹیسٹ ہوتے ہیں۔ غلط حصے کا سکین یا بغیر معائنے رپورٹ گمراہ کر سکتی ہے۔
بغیر آپریشن علاج
زیادہ تر غیر پیچیدہ درد میں معلومات، مناسب سرگرمی، محفوظ درد کی دوا، فزیوتھراپی، نیند اور وزن/شوگر کی دیکھ بھال پہلے آتی ہے۔ منتخب نس کے درد میں امیج گائیڈڈ انجکشن ہو سکتا ہے۔ لمبا بستر آرام، بار بار غیر منظم جھٹکے اور خود سے سٹیرائڈ یا نشہ آور دوا نقصان دے سکتے ہیں۔
آپریشن یا طریقۂ علاج کب زیرِ غور آتا ہے؟
بڑھتی اعصابی کمزوری، حرام مغز یا کاوڈا ایکوائنا دباؤ، عدم استحکام، ٹیڑھاپن، رسولی، انفیکشن، فریکچر یا مناسب علاج کے باوجود شدید نس درد میں آپریشن زیرِ غور آتا ہے۔ مقصد دباؤ ختم، استحکام، سیدھ، ٹشو تشخیص یا انفیکشن کنٹرول ہو سکتا ہے۔ ہر ڈیکمپریشن کے ساتھ پیچ یا فیوژن ضروری نہیں۔
علاج کے ممکنہ طریقے
- غیر آپریشنی علاج اور بحالی
- مائیکرو یا کم چیرا ڈیکمپریشن
- منتخب سلپ ڈسک میں ڈسکیکٹومی
- عدم استحکام یا سیدھ کے لیے ضرورت پر پیچ/فیوژن
- رسولی، انفیکشن یا چوٹ کے مطابق مخصوص سرجری
بیماری اور علاج کے خطرات
بڑھتے دباؤ کو نظر انداز کرنے سے مستقل کمزوری، چلنے یا پیشاب پاخانے کا نقصان ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف غیر ضروری آپریشن اصل درد حل کیے بغیر خطرہ بڑھاتا ہے۔ درست مریض اور درست ہدف کا انتخاب اسپائن سرجری کی بنیادی حفاظت ہے۔ ہر آپریشن میں کچھ خطرہ موجود ہوتا ہے۔ بے ہوشی کی دوا، خون بہنا، انفیکشن، خون کا لوتھڑا اور زخم دیر سے بھرنا عمومی خطرات ہیں۔ اعصابی خطرات بیماری کی جگہ کے مطابق بدلتے ہیں اور ان میں نئی کمزوری، سن پن، بولنے یا نظر کی خرابی، دورہ، دماغی پانی کا رساؤ، دوبارہ علاج کی ضرورت یا مطلوبہ فائدہ نہ ملنا شامل ہو سکتا ہے۔
صحت یابی اور فالو اَپ
صحت یابی آپریشن اور پہلے سے اعصاب کی حالت پر منحصر ہے۔ عام طریقوں کے بعد چلنا عموماً جلد شروع ہوتا ہے۔ وزن، ورزش، کام پر واپسی اور فزیوتھراپی ہر مریض کے مطابق ہوں اور خطرے کی علامات معلوم ہوں۔ صحت یابی کو صرف پہلے دو تین دن سے نہیں جانچا جاتا۔ درد کا مناسب علاج، زخم کی دیکھ بھال، غذائیت، محفوظ انداز میں چلنا پھرنا، فزیوتھراپی اور باقاعدہ فالو اَپ اہم ہیں۔ دباؤ ختم ہونے سے بعض علامات جلد بہتر ہوتی ہیں، لیکن کمزور یا دیر سے متاثر اعصاب کو ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں اور پرانا مستقل نقصان مکمل واپس نہیں بھی آ سکتا۔
کن علامات میں فوراً ایمرجنسی جائیں؟
- پیشاب رکنا/بے اختیار، پاخانے کا کنٹرول ختم یا رانوں کے بیچ سن پن
- تیزی سے کمزوری یا چلنا بند
- بخار کے ساتھ شدید ریڑھ درد یا کم مدافعت
- بڑی چوٹ کے بعد شدید درد
مشورے کے لیے کیا ساتھ لائیں؟
اصل ایم آر آئی/سی ٹی تصاویر یا ڈیجیٹل فائل، تحریری رپورٹ، پچھلے نسخے، موجودہ ادویات کی فہرست اور سابقہ آپریشن یا پیتھالوجی ریکارڈ ساتھ لائیں۔ اچانک خطرے کی علامات ہوں تو معمول کی اپائنٹمنٹ کا انتظار نہ کریں۔
مزید معتبر معلومات
- AANS — Herniated Disc: https://www.aans.org/patients/conditions-treatments/herniated-disc/
- AANS — Lumbar Spinal Stenosis: https://www.aans.org/patients/conditions-treatments/lumbar-spinal-stenosis/
اہم وضاحت
یہ صفحہ مریضوں اور اہلِ خانہ کی عمومی رہنمائی کے لیے ہے۔ یہ کسی ایک مریض کی تشخیص، معائنے یا علاج کا متبادل نہیں اور کسی نتیجے کی ضمانت نہیں دیتا۔ محفوظ علاج کا فیصلہ علامات، معائنے، سکین، عمر، دوسری بیماریوں، ادویات اور دستیاب سہولت کو دیکھ کر ہوتا ہے۔
