Dr Nabeel Choudhary Neurosurgeon
Menu

مختصر خلاصہ

کیاری میلفارمیشن میں چھوٹے دماغ کا نچلا حصہ کھوپڑی کے بڑے سوراخ سے نیچے آتا ہے۔ کیاری ون بچے یا بالغ میں اتفاقاً مل سکتا اور ہر بار علامتی نہیں۔ کیاری ٹو مائیلومیننجوسیل کے ساتھ عام ہے۔ علامات دماغی پانی کی رکاوٹ، برین سٹیم/گردن حرام مغز اور سائرنکس سے بنتی ہیں۔

Blue medical illustration of the brain and spine

کیاری میلفارمیشن

Patient Learning Centre | مریضوں کی رہنمائی

یہ بیماری کیا ہے؟

کیاری میلفارمیشن میں چھوٹے دماغ کا نچلا حصہ کھوپڑی کے بڑے سوراخ سے نیچے آتا ہے۔ کیاری ون بچے یا بالغ میں اتفاقاً مل سکتا اور ہر بار علامتی نہیں۔ کیاری ٹو مائیلومیننجوسیل کے ساتھ عام ہے۔ علامات دماغی پانی کی رکاوٹ، برین سٹیم/گردن حرام مغز اور سائرنکس سے بنتی ہیں۔

کیا علامات ہو سکتی ہیں؟

  • کھانسی، زور یا ہنسنے سے پچھلے سر/گردن درد
  • توازن، ہاتھ کا باریک کام، سن پن یا کمزوری
  • نگلنا، آواز، سانس رکنا یا آنکھ حرکت مسئلہ
  • سائرنکس سے ٹیڑھاپن، درد اور منتخب حس کم

تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

دماغ اور گردن ایم آر آئی ٹانسل، پانی راستہ، ہائیڈروسیفالس اور سائرنکس دکھاتا ہے؛ کبھی پوری ریڑھ ایم آر آئی چاہیے۔ علامت کے مطابق نیند، نگلنے یا یورولوجی ٹیسٹ ہوتے ہیں۔ صرف ٹانسل کتنے ملی میٹر نیچے ہیں یہ عام سر درد کی وجہ ثابت نہیں کرتا۔

بغیر آپریشن علاج

بے علامت کیاری ون اور خطرناک سائرنکس نہ ہو تو نگرانی مناسب ہے۔ سر درد کی اصل قسم، مثلاً ساتھ مائیگرین، کا علاج ہوتا ہے۔ فزیوتھراپی پٹھوں درد میں مدد مگر پانی رکاوٹ نہیں کھولتی۔ ہائیڈروسیفالس یا ٹیترنگ اصل وجہ ہو تو پہلے اس کا علاج لگ سکتا ہے۔

آپریشن یا طریقۂ علاج کب زیرِ غور آتا ہے؟

واضح بڑھتی علامت، برین سٹیم/حرام مغز خرابی یا نمایاں علامتی سائرنکس میں پوسٹیریئر فوسا ڈیکمپریشن ہوتی ہے۔ جگہ بنانے کو ہڈی ہٹتی اور منتخب مریض میں جھلی کھول کر پیوند لگتا ہے۔ زیادہ کھلا طریقہ پانی بہاؤ بہتر کر سکتا مگر لیک خطرہ بھی بڑھاتا ہے، اس لیے انفرادی انتخاب ہے۔

علاج کے ممکنہ طریقے

  • علامات اور ایم آر آئی کے ساتھ نگرانی
  • اصل وجہ ہو تو دماغی پانی کا علاج
  • پوسٹیریئر فوسا ہڈی ڈیکمپریشن
  • منتخب مریض میں جھلی کھول کر پیوند
  • ٹیڑھاپن، نیند، نگلنے اور بحالی علاج

بیماری اور علاج کے خطرات

بڑھتا دباؤ یا سائرنکس مستقل کمزوری، حس نقصان، سکولیوسس یا نگلنے/سانس مسئلہ دے سکتا ہے۔ آپریشن میں پانی رساؤ، جھلی سوجن، میننجائٹس، خون، اعصابی نقصان، علامت باقی یا دوبارہ آپریشن ہو سکتا ہے۔ ہر سر درد ڈیکمپریشن سے نہیں ٹھیک ہوتا۔ ہر آپریشن میں کچھ خطرہ موجود ہوتا ہے۔ بے ہوشی کی دوا، خون بہنا، انفیکشن، خون کا لوتھڑا اور زخم دیر سے بھرنا عمومی خطرات ہیں۔ اعصابی خطرات بیماری کی جگہ کے مطابق بدلتے ہیں اور ان میں نئی کمزوری، سن پن، بولنے یا نظر کی خرابی، دورہ، دماغی پانی کا رساؤ، دوبارہ علاج کی ضرورت یا مطلوبہ فائدہ نہ ملنا شامل ہو سکتا ہے۔

صحت یابی اور فالو اَپ

کھانسی والا درد نسبتاً جلد بہتر ہو سکتا ہے، مگر سائرنکس اور اعصاب مہینوں ایم آر آئی سے دیکھے جاتے ہیں۔ سرگرمی بتدریج واپس آتی ہے۔ درست ڈیکمپریشن کے بعد بھی نیند، نگلنا یا ٹیڑھاپن اپنے ماہر کا علاج چاہتا ہے۔ صحت یابی کو صرف پہلے دو تین دن سے نہیں جانچا جاتا۔ درد کا مناسب علاج، زخم کی دیکھ بھال، غذائیت، محفوظ انداز میں چلنا پھرنا، فزیوتھراپی اور باقاعدہ فالو اَپ اہم ہیں۔ دباؤ ختم ہونے سے بعض علامات جلد بہتر ہوتی ہیں، لیکن کمزور یا دیر سے متاثر اعصاب کو ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں اور پرانا مستقل نقصان مکمل واپس نہیں بھی آ سکتا۔

کن علامات میں فوراً ایمرجنسی جائیں؟

  • نیا نگلنے/سانس رکنے کا مسئلہ
  • تیز کمزوری، چلنا یا مثانہ خراب
  • شدید سر درد، قے یا غنودگی
  • آپریشن بعد زخم سے شفاف پانی، بخار یا گردن سوجن

مشورے کے لیے کیا ساتھ لائیں؟

اصل ایم آر آئی/سی ٹی تصاویر یا ڈیجیٹل فائل، تحریری رپورٹ، پچھلے نسخے، موجودہ ادویات کی فہرست اور سابقہ آپریشن یا پیتھالوجی ریکارڈ ساتھ لائیں۔ اچانک خطرے کی علامات ہوں تو معمول کی اپائنٹمنٹ کا انتظار نہ کریں۔

مزید معتبر معلومات

  • NINDS — Chiari Malformation: https://www.ninds.nih.gov/health-information/disorders/chiari-malformation

اہم وضاحت

یہ صفحہ مریضوں اور اہلِ خانہ کی عمومی رہنمائی کے لیے ہے۔ یہ کسی ایک مریض کی تشخیص، معائنے یا علاج کا متبادل نہیں اور کسی نتیجے کی ضمانت نہیں دیتا۔ محفوظ علاج کا فیصلہ علامات، معائنے، سکین، عمر، دوسری بیماریوں، ادویات اور دستیاب سہولت کو دیکھ کر ہوتا ہے۔