Dr Nabeel Choudhary Neurosurgeon
Menu

مختصر خلاصہ

پچوٹری دماغ کے نیچے ایک چھوٹا مگر اہم غدود ہے جو جسم کے کئی ہارمونز کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس کی زیادہ تر رسولیاں کینسر نہیں ہوتیں، لیکن وہ ہارمون زیادہ بنا سکتی ہیں، نارمل ہارمون کم کر سکتی ہیں یا اوپر بڑھ کر نظر کی نسوں پر دباؤ ڈال سکتی ہیں۔…

Blue medical illustration of the brain and spine

پچوٹری رسولی اور اینڈوسکوپک آپریشن

Patient Learning Centre | مریضوں کی رہنمائی

یہ بیماری کیا ہے؟

پچوٹری دماغ کے نیچے ایک چھوٹا مگر اہم غدود ہے جو جسم کے کئی ہارمونز کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس کی زیادہ تر رسولیاں کینسر نہیں ہوتیں، لیکن وہ ہارمون زیادہ بنا سکتی ہیں، نارمل ہارمون کم کر سکتی ہیں یا اوپر بڑھ کر نظر کی نسوں پر دباؤ ڈال سکتی ہیں۔ علاج صرف جسامت نہیں بلکہ ہارمون، نظر اور بڑھنے کی رفتار دیکھ کر طے ہوتا ہے۔

کیا علامات ہو سکتی ہیں؟

  • دائیں بائیں کی نظر کم ہونا، دھندلا یا دوہرا نظر آنا
  • سر درد یا اچانک شدید درد کے ساتھ نظر گرنا
  • ماہواری، اولاد، جنسی صحت یا چھاتی سے دودھ آنے میں تبدیلی
  • وزن، چہرے، ہاتھوں، بلڈ پریشر، شوگر، توانائی، پیاس یا پیشاب میں تبدیلی

تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

تشخیص میں پچوٹری ایم آر آئی، نظر کے میدان کا باقاعدہ ٹیسٹ اور ہارمونز کی منتخب جانچ شامل ہوتی ہے۔ پرولیکٹن، کورٹیسول، تھائیرائڈ، گروتھ ہارمون اور جنسی ہارمون دیکھے جا سکتے ہیں۔ رپورٹ کو اینڈوکرائن ماہر کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے کیونکہ ایک ہی ٹیسٹ ہر رسولی کا علاج طے نہیں کرتا۔

بغیر آپریشن علاج

بہت سے پرولیکٹینوما دوا سے سکڑ جاتے ہیں اور پہلے مرحلے میں آپریشن کی ضرورت نہیں پڑتی۔ چھوٹی غیر فعال رسولی کو فالو اَپ کیا جا سکتا ہے۔ اگر نارمل ہارمون کم ہوں تو ان کی جگہ دوا دینا اور اینڈوکرائن ڈاکٹر کی نگرانی ضروری ہے۔

آپریشن یا طریقۂ علاج کب زیرِ غور آتا ہے؟

نظر کو خطرہ، ہارمون بنانے والی بعض رسولیاں، مسلسل بڑھنا، دوا کا ناکام یا ناقابل برداشت ہونا، یا پچوٹری اپوپلیکسی میں اچانک نظر اور ہوش کی خرابی آپریشن کی وجہ بن سکتی ہے۔ زیادہ تر منتخب رسولیاں ناک کے راستے اینڈوسکوپک ٹرانس سفینائیڈل طریقے سے نکالی جاتی ہیں؛ بہت پھیلی رسولی میں مختلف راستہ یا مرحلہ وار علاج درکار ہو سکتا ہے۔

علاج کے ممکنہ طریقے

  • ناک کے راستے اینڈوسکوپک رسولی نکالنا
  • پرولیکٹینوما اور منتخب ہارمون مسائل کا ادویاتی علاج
  • باقی یا دوبارہ بڑھنے والی منتخب رسولی کے لیے فوکسڈ شعاعیں
  • طویل مدتی ایم آر آئی، نظر اور ہارمون فالو اَپ

بیماری اور علاج کے خطرات

مسلسل دباؤ سے نظر مستقل متاثر ہو سکتی ہے۔ زیادہ یا کم ہارمون دل، ہڈیوں، شوگر، بلڈ پریشر اور عمومی صحت کو نقصان دے سکتے ہیں۔ پچوٹری اپوپلیکسی میں اچانک خون یا سوجن جان اور نظر کے لیے ایمرجنسی ہو سکتی ہے۔ ہر آپریشن میں کچھ خطرہ موجود ہوتا ہے۔ بے ہوشی کی دوا، خون بہنا، انفیکشن، خون کا لوتھڑا اور زخم دیر سے بھرنا عمومی خطرات ہیں۔ اعصابی خطرات بیماری کی جگہ کے مطابق بدلتے ہیں اور ان میں نئی کمزوری، سن پن، بولنے یا نظر کی خرابی، دورہ، دماغی پانی کا رساؤ، دوبارہ علاج کی ضرورت یا مطلوبہ فائدہ نہ ملنا شامل ہو سکتا ہے۔

صحت یابی اور فالو اَپ

اینڈوسکوپی کے بعد نظر، خون کا سوڈیم، پیشاب کی مقدار، کورٹیسول اور دماغی پانی کے رساؤ پر نظر رکھی جاتی ہے۔ بعض مریضوں کو عارضی یا مستقل ہارمون دوا کی ضرورت پڑتی ہے۔ ناک کی احتیاط، پیتھالوجی، اینڈوکرائن فالو اَپ اور اگلا ایم آر آئی ضروری ہیں۔ صحت یابی کو صرف پہلے دو تین دن سے نہیں جانچا جاتا۔ درد کا مناسب علاج، زخم کی دیکھ بھال، غذائیت، محفوظ انداز میں چلنا پھرنا، فزیوتھراپی اور باقاعدہ فالو اَپ اہم ہیں۔ دباؤ ختم ہونے سے بعض علامات جلد بہتر ہوتی ہیں، لیکن کمزور یا دیر سے متاثر اعصاب کو ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں اور پرانا مستقل نقصان مکمل واپس نہیں بھی آ سکتا۔

کن علامات میں فوراً ایمرجنسی جائیں؟

  • اچانک شدید سر درد کے ساتھ نظر کم یا دوہری ہونا
  • بے ہوشی، الجھن، بہت کم بلڈ پریشر یا مسلسل قے
  • نظر کے کناروں کا تیزی سے کم ہونا
  • آپریشن کے بعد ناک سے مسلسل شفاف پانی، بخار، بڑھتا درد یا بہت زیادہ پیاس و پیشاب

مشورے کے لیے کیا ساتھ لائیں؟

اصل ایم آر آئی/سی ٹی تصاویر یا ڈیجیٹل فائل، تحریری رپورٹ، پچھلے نسخے، موجودہ ادویات کی فہرست اور سابقہ آپریشن یا پیتھالوجی ریکارڈ ساتھ لائیں۔ اچانک خطرے کی علامات ہوں تو معمول کی اپائنٹمنٹ کا انتظار نہ کریں۔

مزید معتبر معلومات

  • AANS — Pituitary Gland and Pituitary Tumors: https://www.aans.org/patients/conditions-treatments/pituitary-gland-and-pituitary-tumors/
  • Endocrine Society — Pituitary Tumors: https://www.endocrine.org/patient-engagement/endocrine-library/pituitary-tumors

اہم وضاحت

یہ صفحہ مریضوں اور اہلِ خانہ کی عمومی رہنمائی کے لیے ہے۔ یہ کسی ایک مریض کی تشخیص، معائنے یا علاج کا متبادل نہیں اور کسی نتیجے کی ضمانت نہیں دیتا۔ محفوظ علاج کا فیصلہ علامات، معائنے، سکین، عمر، دوسری بیماریوں، ادویات اور دستیاب سہولت کو دیکھ کر ہوتا ہے۔