Dr Nabeel Choudhary Neurosurgeon
Menu

مختصر خلاصہ

اسپائنا بائیفڈا اعصابی نالی کی پیدائشی بیماریوں کا مجموعہ ہے جس میں حمل کے ابتدائی ہفتوں میں ریڑھ اور حرام مغز کے اردگرد ساخت مکمل معمول کے مطابق نہیں بنتی۔ اس میں پوشیدہ خرابی، بند ڈس رافزم، میننجوسیل اور کھلا مائیلومیننجوسیل شامل ہیں۔ صرف نام سے بچے کی چال، مثانہ، ذہانت یا…

Blue medical illustration of the brain and spine

اسپائنا بائیفڈا: خاندان کے لیے مکمل تعارف

Patient Learning Centre | مریضوں کی رہنمائی

یہ بیماری کیا ہے؟

اسپائنا بائیفڈا اعصابی نالی کی پیدائشی بیماریوں کا مجموعہ ہے جس میں حمل کے ابتدائی ہفتوں میں ریڑھ اور حرام مغز کے اردگرد ساخت مکمل معمول کے مطابق نہیں بنتی۔ اس میں پوشیدہ خرابی، بند ڈس رافزم، میننجوسیل اور کھلا مائیلومیننجوسیل شامل ہیں۔ صرف نام سے بچے کی چال، مثانہ، ذہانت یا مستقبل نہیں بتایا جا سکتا۔

کیا علامات ہو سکتی ہیں؟

  • کمر پر کھلی تھیلی یا جلد سے ڈھکی سوجن
  • بند قسم میں گڑھا، بالوں کا گچھا، چربی گلٹی، نشان یا کولہوں کی لکیر مختلف
  • ٹانگوں کی کمزوری، پاؤں ٹیڑھے یا حس کم
  • مثانہ/آنت، دماغی پانی یا کیاری علامات ساتھ ہو سکتی ہیں

تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

حمل الٹراساؤنڈ کھلی خرابی دکھا سکتا اور منتخب مرکز میں فیٹل ایم آر آئی ہوتا ہے۔ پیدائش کے بعد دیکھا جاتا ہے کہ تھیلی کھلی، جلد ڈھکی اور اعصابی کمزوری ہے یا نہیں۔ قسم کے مطابق دماغ/ریڑھ ایم آر آئی، گردہ/مثانہ اور ہڈی معائنہ ہوتا ہے۔ ہر معمولی اوپر سطحی گڑھے کو سکین ضروری نہیں۔

بغیر آپریشن علاج

علاج ٹیم کا ہے: بچوں کے ڈاکٹر، نیورو سرجن، یورولوجی، آرتھوپیڈک، فزیوتھراپی، نرسنگ اور تعلیمی مدد۔ مثانہ/گردے بچانا، آنت کا معمول، جلد، غذائیت، چلنے کے آلات اور دماغی پانی کا علاج کمر بند کرنے جتنا اہم ہو سکتا ہے۔ حمل سے پہلے فولک ایسڈ خطرہ کم کرتا ہے مگر ہر کیس نہیں روکتا۔

آپریشن یا طریقۂ علاج کب زیرِ غور آتا ہے؟

کھلا مائیلومیننجوسیل عموماً جلد بند کیا جاتا ہے تاکہ ننگا ٹشو اور انفیکشن بچیں، مگر پہلے سے نہ بنے اعصاب واپس نہیں بنتے۔ بند خرابی میں کھنچاؤ، دباؤ، پانی یا بڑھتا اعصابی/مثانہ نقصان ہو تو آپریشن ہوتا ہے۔ دماغی پانی میں شنٹ یا منتخب اینڈوسکوپی ہو سکتی ہے۔

علاج کے ممکنہ طریقے

  • پیدائش کے بعد کھلے مائیلومیننجوسیل کی بندش
  • دستیاب مخصوص مرکز میں بہت منتخب حمل کے دوران مرمت
  • بڑھتی علامتی ٹیترڈ کارڈ ریلیز
  • دماغی پانی کا شنٹ یا منتخب اینڈوسکوپی
  • عمر بھر یورولوجی، آرتھوپیڈک اور بحالی

بیماری اور علاج کے خطرات

بیماری میننجائٹس، دماغی پانی، گردہ نقصان، بستر زخم، ٹیڑھاپن اور کام کی کمی دے سکتی ہے۔ سرجری میں انفیکشن، پانی رساؤ، زخم کھلنا، اعصابی تبدیلی اور دوبارہ ٹیترنگ ہو سکتی ہے۔ مثانہ اور جلد مسئلہ جلد پکڑنے سے مستقبل بہتر ہوتا ہے۔ ہر آپریشن میں کچھ خطرہ موجود ہوتا ہے۔ بے ہوشی کی دوا، خون بہنا، انفیکشن، خون کا لوتھڑا اور زخم دیر سے بھرنا عمومی خطرات ہیں۔ اعصابی خطرات بیماری کی جگہ کے مطابق بدلتے ہیں اور ان میں نئی کمزوری، سن پن، بولنے یا نظر کی خرابی، دورہ، دماغی پانی کا رساؤ، دوبارہ علاج کی ضرورت یا مطلوبہ فائدہ نہ ملنا شامل ہو سکتا ہے۔

صحت یابی اور فالو اَپ

فالو اَپ نشوونما اور بالغ عمر تک جاری رہتا ہے۔ بچے کے بڑھنے پر چلنے کی صلاحیت بدل سکتی ہے۔ گردہ/یوروڈائنامک، آنت پروگرام، شنٹ آگاہی، سکول شمولیت اور بالغ سروس میں منتقلی بحران سے پہلے منظم ہوں۔ صحت یابی کو صرف پہلے دو تین دن سے نہیں جانچا جاتا۔ درد کا مناسب علاج، زخم کی دیکھ بھال، غذائیت، محفوظ انداز میں چلنا پھرنا، فزیوتھراپی اور باقاعدہ فالو اَپ اہم ہیں۔ دباؤ ختم ہونے سے بعض علامات جلد بہتر ہوتی ہیں، لیکن کمزور یا دیر سے متاثر اعصاب کو ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں اور پرانا مستقل نقصان مکمل واپس نہیں بھی آ سکتا۔

کن علامات میں فوراً ایمرجنسی جائیں؟

  • کھلی رسنے والی کمر تھیلی محفوظ ڈھانپ کر فوری نوزائیدہ مرکز
  • بخار، چڑچڑاہٹ، نرم جگہ ابھرنا یا شنٹ علامات
  • نئی ٹانگ کمزوری، کمر درد یا مثانہ بگاڑ
  • پیشاب کم، بار بار انفیکشن یا جلد زخم

مشورے کے لیے کیا ساتھ لائیں؟

اصل ایم آر آئی/سی ٹی تصاویر یا ڈیجیٹل فائل، تحریری رپورٹ، پچھلے نسخے، موجودہ ادویات کی فہرست اور سابقہ آپریشن یا پیتھالوجی ریکارڈ ساتھ لائیں۔ اچانک خطرے کی علامات ہوں تو معمول کی اپائنٹمنٹ کا انتظار نہ کریں۔

مزید معتبر معلومات

  • CDC — Spina Bifida: https://www.cdc.gov/spina-bifida/about/index.html
  • AANS — Spina Bifida: https://www.aans.org/patients/conditions-treatments/spina-bifida/

اہم وضاحت

یہ صفحہ مریضوں اور اہلِ خانہ کی عمومی رہنمائی کے لیے ہے۔ یہ کسی ایک مریض کی تشخیص، معائنے یا علاج کا متبادل نہیں اور کسی نتیجے کی ضمانت نہیں دیتا۔ محفوظ علاج کا فیصلہ علامات، معائنے، سکین، عمر، دوسری بیماریوں، ادویات اور دستیاب سہولت کو دیکھ کر ہوتا ہے۔